تو پھر کیا سوچتے ہو

BY: SHARJEEL SHOUKAT, PHARM. D., BATCH X

گر غور کریں ، جو اب تک گزری
چلو ،وقتِ قدیم کا سفر کریں ابھی

جب تیری سوچ کے پنّے کورے تھے
ویران تیرے خیال کی گلیاں تھیں

اندھیروں سے بہت تو ڈرتا تھا
باپ کی انگلی تھام کے چلتا تھا

تیرے افکار اوروں کے مرہونِ منّت تھے
تیرے آسماں کے بادل  تک ،پردیسی تھے

وقت نے پھر صدیوں پرانی چال چلی
بندمٹھی   سے، پھسلتی  ریت  بنی

تیرے بچپن نے جوانی کی رِدا اوڑھ لی
تیرے مزاج نے اک نئی راہ موڑ لی

اچانک پھر نرم پیروں کی زمیں بنجر ہوگئ
دمکتے پھولوں کی کلی ، جیسے خنجر ہو گئی

ذہن میں سوالوں کا سمندر اسیر تھا
ناخوش ہرپل جوابوں سے ضمیر  تھا

دھندلی تصویر پھر شاید صاف ہوگئی
چاندنی سے   رات   شفاف   ہوگئی

اپنے ہاتھوں سے وہم کاآئینہ کا توڑتے ہو
صدائے دل ہے کہ پھر کیا سوچتے ہو؟

تم تو اب سب کچھ  جان  چکے  ہو
اس مٹی کے رنگ کو پہچان چکے ہو

تو کیا تم سب مان چکے ہو؟
پھر وہی رقاب تھام چکے ہو؟

تو پھر کیا سوچتے ہو
آزادیءِوجود کے بارے میں

بارِطوق سے جھکی گردن کے بارے میں
خاموشی کے اس شور کے بارے میں

دلوں سے گرتے شگاف کے بارے میں
آب میں ڈوبی ، آتش کے بارے میں

تو پھر کیا سوچتے ہو۔۔۔

About the author: Sharjeel Shoukat is a young, Urdu freelance writer and poet, who wishes to communicate with society and express his ideas in a literal way.

 

06-29a-large.jpg
SOURCE: GOOGLE

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s