سفر ہو رہا ہے

BY: MAHAM NOOR DARABU, M.B.B.S., BATCH XX
کچھ چالیس پینتالیس سوار ہیں مسافر،
انسان ہیں وہ بس، نہ مؤمن نہ کافر۔
عورتیں ہیں، لڑکے ہیں اور مرد حضرات،
ڈرائیور ہے بس میں اور خدا کی ذات.
وہ غلابی دھات کا ڈبّا چلا جا رہا ہے،
دھات کے ڈبّے میں سفر ہوا جا رہا ہے۔
صفورا چورنگی پر رُکی جو آکے بس،
بڑے ہی خوفناک منٹ تھے اگلے دس۔
اترے بائکوں سے، چڑھے بس میں وہ،
وحشی جانور پولیس کی وردی میں تھے جو۔
چھ آدمی تھے اور بربادی تھی ایسی،
چھوٹی سی بس میں جہنم کے عذاب جیسی۔
چلا دیں دھنا دھن گولیاں ہر مسافر پر،
خود خدا بن کھڑے ہوں جیسے ہر کافر پر۔
ان بزدلوں کا اسلحہ بس اِک پستول تھی،
دوزخ کے دروازے کی چابی بس یہی اِک پستول تھی۔
بڑا ہی فخر ہے اپنے جہاد پہ جنکو،
کیا چیز ہے اسلام سکھاۓ کون انکو۔
بس کا وہ منظر بیاں نہ ہو پاۓگا مجھ سے،
منظر کو زرا کیجیۓ تسوّر آپ خود سے،
کیجیۓ تسوّر بس میں سے رستے ہوۓ خون کو،
اور وحشی درندوں کے ناجائز جنون کو۔
About the author: Ever since I’ve come to med school, the only As I’ve seen are in the attendance register. 
WhatsApp Image 2017-06-20 at 21.49.39
PHOTO BY: THE AUTHOR
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s