میں بھول جاتا ہوں

BY: SHARJEEL SHOUKAT, PHARM. D., BATCH X

رخت دنیا میں عجب دوڑ لگی ہے،
بوجھ اٹھانا ہے، سکت کی کمی ہے،
دراز عمر سے یہی رسم عام ہوئی ہے،
نام کی جستجو ہی بے نام ہوئی ہے؛

میں بھی مینا کی طرح سکھایا جاتا ہوں،
مگر شوق پرواز میں سبق بھول جاتا ہوں؛

دھول کی خول میں جب سمیٹتا سے دھواں،
دبی آ رکھوں میں کیا کمال ابھرتا ہے،
ہولے ہولے پھر وقت کا پہیہ چلتا ہے،
لڑکھڑا کر خود ہی پھر سمبھلتا ہے؛

دستک رواج سے ہر سمت الجھتا ہوں،
مگر مانوس صدا‏وں کی شناس بھول جاتا ہوں؛

خلق  افضل سے مری پہچان کئے ہو،
ذرے ذرے کا مجھے مہمان کئے ہو،
نفس کے افکار کی الجھن بھی دئے ہو،
راز ہے گر، کو فن افشاں بھی دئے ہو؛

ترک گفتار کی قسم دلایا جاتا ہوں،
مگر وعدوں کی وفا میں بھول جاتا ہوں ۔۔

About the author: Sharjeel Shoukat is a young, Urdu freelance writer and poet, who wishes to comunicate with society and express his ideas in a literal way.

birds

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s